کوہستان کرپشن اسکینڈل میں 8 بے نامی دار اثاثوں سے دستبردار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کوہستان کرپشن اسکینڈل میں 8 بے نامی دار اثاثوں سے دستبردار ہوگئے جب کہ احتساب عدالت نے سرنڈر کرنے والوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
اثاثے سرنڈر کرنے والوں میں مرکزی ملزم قیصر اقبال کی دو بہنیں،ڈرائیور،بہنوئی سمیت قریبی رشتہ دار شامل ہیں، اثاثے سرنڈر کرنے والوں میں شعیب الرحمن،ثاقب زمان، اعجاز احمد، شبنم عاصم، زوبیا اعجاز، ہاشم خان، سید علی خان، اظہر اقبال شامل ہیں۔
فیصلے کے مطابق بے نامی دار نے چھ پلاٹس، تین گھر، چھ گاڑیاں عدالت کے سامنے سرنڈر کی،
بے نامی داروں کی بیان کے مطابق ملزم قصر اقبال نے انکے نام پر اثاثے بنائے، عدالت نے بیانات ریکارڈ کرنے کے وقت نیب افسران کو عدالت سے باہر کیا، بیان رکارڈ کرتے ہوئے تمام بے نامہ داروں نے بتایا کہ ان پر کوئی پریشر نہیں ہے، مرضی سے بیان دے رہے ہیں۔
فیصلے کے مطابق بے نامی داروں کو اثاثے سرنڈر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، بے نامی داروں کے تمام اثاثے حکومت خیبر پختونخوا کی مالکیت ہیں، نیب قانون کے مطابق ان تمام اثاثوں کو کے پی حکومت کو منتقلی یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔