data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے جدید پیٹریاٹ میزائلز فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جدید پیٹریاٹ کیپیبلٹی میزائلز کے ساتھ ساتھ متعلقہ آلات، تکنیکی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں سلامتی کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق پیٹریاٹ میزائل سسٹم فضائی دفاع کے جدید نظام میں شمار ہوتا ہے، جو بیلسٹک میزائلوں اور فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کو ان میزائلز کی فراہمی سے نہ صرف اس کی فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں اس کی اسٹریٹجک پوزیشن بھی مضبوط ہو جائے گی۔

امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دفاعی شراکت داری کا تسلسل ہے۔

یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دے رہا ہے۔ اس سے قبل امریکا اسرائیل کو بھی 6.

5 ارب ڈالر مالیت کے جدید فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے اس پیکیج میں اپاچی ہیلی کاپٹر، لائٹ وہیکلز، نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کو بڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان کی فروخت امریکا کی خطے میں اسٹریٹجک ترجیحات کی عکاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا خطے میں اپنے اتحادیوں کی عسکری صلاحیت بڑھا کر نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے بلکہ علاقائی سطح پر طاقت کے توازن کو بھی اپنے حق میں رکھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقوں اور مبصرین کی جانب سے اس طرح کے معاہدوں پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی تنازعات کی زد میں ہے اور اسلحے کی فروخت میں اضافے سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سعودی عرب کو کے مطابق

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان