کیا واقعی شکر پڑیاں میں درخت کاٹ کر میوزیم بنایا جا رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شکر پڑیاں کا مقام پیپر میلبری (جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بھرپور ردِعمل سامنے آیا، جہاں شہریوں نے ماحولیاتی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ عین چند ہفتوں کے بعد سوشل میڈیا پر اسلام آباد میوزیم کے قیام سے متعلق خبریں بھی گردش کرنے لگی ہیں، جس کی تعمیر کو بعض حلقوں کی جانب سے درختوں کی کٹائی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے شکرپڑیاں میں اسلام آباد میوزیم کے قیام کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر کو 8.
یہ بھی پڑھیے: شکرپڑیاں کی حسین کنول جھیل کیوں کُملا گئی؟
عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالات کے بعد یہ جاننا ضروری ہو گیا ہے کہ یہ میوزیم کہاں تعمیر کیا جا رہا ہے، اس منصوبے کی اصل تفصیلات کیا ہیں اور کیا واقعی درختوں کی کٹائی کا تعلق میوزیم کی تعمیر سے ہے یا نہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پلاننگ، کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی زفر دیر کا کہنا تھا کہ میوزیمز کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کو حالیہ پیش رفت قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق نیچرل ہسٹری میوزیم کے لیے 5 ایکڑ اراضی سال 1988 میں ہی آفر کی جا چکی تھی اور اس مقصد کے لیے پلاننگ ونگ کی جانب سے کسی نئی زمین کی الاٹمنٹ نہیں کی گئی اور میوزیم کے لیے پہلے سے لوک ورثہ میں پلاٹ موجود ہے جس پر اب باقاعدہ میوزیم کا آغاز کیا جائے گا۔
اسی طرح ڈی جی پلاننگ نے واضح کیا کہ نیشنل میوزیم کے لیے 8.33 ایکڑ پر مشتمل زمین بھی سال 2005 میں باقاعدہ طور پر الاٹ کی جا چکی تھی، جبکہ حالیہ سرگرمیاں صرف زمین کے قبضے اور انتظامی معاملات کی تکمیل سے متعلق ہیں، نہ کہ کسی نئی الاٹمنٹ سے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟
زفر دیر کا کہنا تھا کہ بعض منصوبوں کو غلط تناظر میں پیش کیے جانے کے باعث عوام میں ابہام پیدا ہوا، حالانکہ ضروری امر یہ ہے کہ پہلے سے الاٹ شدہ زمینوں پر عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ اور ثقافت کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کی چیئرپرسن ایم این اے سیدہ نوشین افتخار کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے شکرپڑیاں میں اسلام آباد میوزیم کے قیام کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر کو 8.33 ایکڑ زمین الاٹ کر رکھی ہے جبکہ زمین کا باضابطہ قبضہ لینے کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: درختوں سے محبت: نوجوان سماجی کارکن نے درخت سے 72 گھنٹے لپٹے رہ کر اپنا ہی ریکارڈ توڑدیا
دوسری جانب قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کو نیشنل میوزیم آف پاکستان کی تعمیر کے لیے مناسب فنڈز مختص کرے اور انہیں بروقت جاری کیا جائے۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ بروقت مالی معاونت سے منصوبے پر عملی کام تیز ہو گا اور وفاقی دارالحکومت میں قومی سطح کی ایک جدید میوزیم سہولت قائم کی جا سکے گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی ورثے کے تحفظ اور فروغ سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور تہذیبی ورثہ محفوظ رہ سکے اور آنے والی نسلوں تک مؤثر انداز میں منتقل ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد درخت شجرکاری شکرپڑیاں میوزیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد شجرکاری شکرپڑیاں میوزیم درختوں کی کٹائی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میوزیم کے جا رہا ہے کے لیے کیا جا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔