ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تنازع، بھارت کا اولمپک میزبانی کا خواب چکناچور ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش سے تنازع کے بعد بھارت کی 2036 اولمپک گیمز کی میزبانی کی خواہشات پر سوالات اٹھنے لگے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) میں کھیل میں سیاست کے ممکنہ اثرات اور مستقبل میں بائیکاٹ کے خدشات پر تشویش پیدا کردی ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بھارتی سربراہ جے شاہ نے بنگلادیش کی گروپ مرحلے کے میچز بھارت کے بجائے شریک میزبان سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔
یہ تنازع بھارت اور بنگلادیش کے درمیان سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا، جس کے اثرات کھیل تک جا پہنچے۔
بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا، تاہم آئی سی سی نے شیڈول برقرار رکھا، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو بنگلادیش کی جگہ ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا گیا۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے؟
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بائیکاٹ کا فیصلہ، بی سی سی آئی کا آئی سی سی کی حمایت کا اعلان
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے حال ہی میں احمد آباد میں 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی حاصل کی ہے اور خود کو 2036 اولمپکس کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کر رہا ہے، جہاں قطر اس کا بڑا حریف سمجھا جاتا ہے۔
آئی او سی ذرائع کے مطابق ایسی کسی بھی ریاست کو اولمپکس کی میزبانی دینا ناقابلِ تصور ہوگا جہاں جغرافیائی یا سیاسی تنازعات کے باعث شریک ممالک بائیکاٹ کر سکتے ہوں۔
اولمپک چارٹر کھیل اور سیاست میں مکمل علیحدگی پر زور دیتا ہے اور سیاسی یا مذہبی اظہار کی اجازت نہیں دیتا۔
دی گارجین نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ آئی او سی نے حال ہی میں انڈونیشیا کو اسرائیلی ایتھلیٹس کو ویزا نہ دینے پر ایک عالمی جمناسٹکس ایونٹ سے متعلق میزبانی کے عمل سے باہر کر دیا تھا، جس سے اس کے اولمپک عزائم کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بھارت کو ایک قابلِ اعتبار اولمپک میزبان بننا ہے تو اسے بنگلادیش اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات میں واضح بہتری دکھانا ہوگی، بصورت دیگر بین الاقوامی کرکٹ میں جاری تنازعات اس کی اولمپک بولی کے لیے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔