آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش سے تنازع کے بعد بھارت کی 2036 اولمپک گیمز کی میزبانی کی خواہشات پر سوالات اٹھنے لگے۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) میں کھیل میں سیاست کے ممکنہ اثرات اور مستقبل میں بائیکاٹ کے خدشات پر تشویش پیدا کردی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بھارتی سربراہ جے شاہ نے بنگلادیش کی گروپ مرحلے کے میچز بھارت کے بجائے شریک میزبان سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

یہ تنازع بھارت اور بنگلادیش کے درمیان سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا، جس کے اثرات کھیل تک جا پہنچے۔

بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا، تاہم آئی سی سی نے شیڈول برقرار رکھا، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو بنگلادیش کی جگہ ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا گیا۔

مزید پڑھیں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے؟

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بائیکاٹ کا فیصلہ، بی سی سی آئی کا آئی سی سی کی حمایت کا اعلان

رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے حال ہی میں احمد آباد میں 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی حاصل کی ہے اور خود کو 2036 اولمپکس کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کر رہا ہے، جہاں قطر اس کا بڑا حریف سمجھا جاتا ہے۔

آئی او سی ذرائع کے مطابق ایسی کسی بھی ریاست کو اولمپکس کی میزبانی دینا ناقابلِ تصور ہوگا جہاں جغرافیائی یا سیاسی تنازعات کے باعث شریک ممالک بائیکاٹ کر سکتے ہوں۔

اولمپک چارٹر کھیل اور سیاست میں مکمل علیحدگی پر زور دیتا ہے اور سیاسی یا مذہبی اظہار کی اجازت نہیں دیتا۔

دی گارجین نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ آئی او سی نے حال ہی میں انڈونیشیا کو اسرائیلی ایتھلیٹس کو ویزا نہ دینے پر ایک عالمی جمناسٹکس ایونٹ سے متعلق میزبانی کے عمل سے باہر کر دیا تھا، جس سے اس کے اولمپک عزائم کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بھارت کو ایک قابلِ اعتبار اولمپک میزبان بننا ہے تو اسے بنگلادیش اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات میں واضح بہتری دکھانا ہوگی، بصورت دیگر بین الاقوامی کرکٹ میں جاری تنازعات اس کی اولمپک بولی کے لیے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز  بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔ 

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور  وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا