Jasarat News:
2026-07-24@08:26:20 GMT

کمزور پارلیمنٹ کا انجام

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-03-7
عوام کو موجودہ پارلیمنٹ میں دلچسپی ہے یا نہیں لیکن گزشتہ دو برسوں میں مَیں نے ایک چیز دیکھی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف‘ ان کی کابینہ اور ایم این ایز کو اس میں بالکل دلچسپی نہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا اتنا بڑا واقعہ ہو جاتا ہے اور اگلے دن ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس سے وزیراعظم اور وزیر داخلہ غائب ہوتے ہیں۔ کیا ان کے نزدیک پارلیمنٹ اتنی بھی اہم نہیں کہ وہاں جا کر وہ عوام کے نمائندوں کو بتا سکیں کہ یہ سب کیسے ہوا اور کس کی ناکامی تھی‘ اور کیا کوئی ذمے داری قبول کرنے کو تیار ہے؟ جس ملک میں اتنا بڑا واقعہ ہو جائے وہاں کا وزیراعظم اور وزیر داخلہ عوام کو پارلیمنٹ میں نظر ہی نہ آئیں تو اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ وہ خود کو پارلیمنٹ کے آگے جوابدہ نہیں سمجھتے۔ مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ ایوانِ زیریں کے 336 اراکین یا ایوانِ بالا کے سو کے قریب سینیٹرز میں سے کوئی ایک بھی یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ اس موقع پر کہاں تھے۔ وہ ہمیں جواب دیں کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا؟ اگرچہ محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں اس حوالے سے بات تو کی لیکن انہوں نے بھی پوری کوشش کی کہ ان کے ایک حرف سے بھی وزیراعظم یا وزیر داخلہ کو یہ نہ لگے کہ وہ ان کی کارکردگی پر کوئی سوال اٹھا رہے ہیں یا یہ کہ وہ دونوں اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شہباز بھائی اور خواجہ آصف بھائی کی گردان اچھی بات ہے کہ اس تلخ ماحول میں نرمی کی ضرورت ہے لیکن جب معاملہ اتنا خوفناک ہو تو بھائی کہہ کر آپ سخت سوال بھی پوچھ سکتے ہیں جو ان کی تقریر میں نہیں تھے۔

شہباز شریف جب نیب کی قید میں تھے تو ہر اجلاس سے پہلے ان کی پارٹی شور ڈالتی تھی کہ انہیں پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں لائیں اور اسد قیصر ان کا پروڈکشن آرڈر جاری کر دیتے تھے۔ شہباز شریف تب اجلاس سے گھنٹہ پہلے ہال میں موجود ہوتے تھے اور اجلاس ختم ہونے تک مسلسل اپنی مظلومیت کی کہانیاں سناتے رہتے تھے۔ اْس وقت ان کی ایوان میں حاضری 80 فی صد تھی‘ جو اَب پانچ فی صد سے بھی کم بتائی جا رہی ہے۔ میں 2002ء سے پارلیمنٹ کی بِیٹ کر رہا ہوں‘ اس دوران کئی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی دیکھی ہیں۔ پارلیمنٹ کے سیکڑوں اجلاس دیکھے‘ لاتعداد تقریریں سنیں‘ نئے وزیراعظم آتے اور گھر جاتے دیکھے۔ میں درجن بھر حکمرانوں کے عروج و زوال کا عینی شاہد ہوں۔ کئی اعلیٰ پائے کے مقرروں کو مکمل خاموشی میں سنا گیا‘ لیکن دھیرے دھیرے وقت سب کو روند کر نکل گیا۔ البتہ ایک بات سب میں مشترک دیکھی کہ سبھی اْسی وقت پارلیمنٹ میں آتے جب انہوں نے وزیراعظم بننا ہوتا۔ وزیراعظم بننے سے پہلے تک سب ہر روز پارلیمنٹ میں نظر آتے اور گھنٹوں تقریریں کرتے۔ ملک و قوم کی محبت میں آنسو بہا کر وہ بتاتے کہ ان سے زیادہ مخلص کوئی نہیں۔ ان کی تقریریں سن کر عام پاکستانی کی آنکھیں بھر آتیں لیکن جونہی انہیں موقع ملا اور وہ مقتدرہ کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بنے ان کا پارلیمنٹ سے تعلق ایک کچے دھاگے جتنا مضبوط بھی نہ رہا۔

میرا خیال ہے کہ یوسف رضا گیلانی شاید پہلے اور آخری وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے دور میں پارلیمنٹ اور اراکین کو اہمیت دی۔ وہ تقریباً ہر اجلاس میں شریک ہوتے جس کی وجہ سے وزرا اور ایم این ایز بھی موجود رہتے۔ گیلانی صاحب سے آپ سو اختلافات کریں لیکن وہ پارلیمنٹ کے تقریباً ہر اجلاس میں شریک ہوتے اور ہر ایم این اے‘ چاہے وہ حکومتی جماعت کا تھا یا اپوزیشن کا‘ سب کو عزت دیتے تھے۔ وہ سبھی کو اپنی نشست سے اٹھ کر ملتے تھے اور یہ سب کچھ ہم پریس گیلری سے بیٹھ کر دیکھ رہے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو ان کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ یوسف رضا گیلانی سے سینیٹ کا الیکشن ہار گئے۔ یہ شاید پہلی دفعہ ہوا تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کی نشست سے اپنا سینیٹر منتخب نہیں کرا سکی تھی۔ یوسف رضا گیلانی کو جہاں اپوزیشن اتحاد کے ووٹ ملے تھے وہیں گیلانی صاحب کی شخصیت اور حسنِ سلوک کی وجہ سے انہیں حکومتی اراکین کے ووٹ بھی ملے تھے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آپ کی موجودگی اور ارکان سے حسن سلوک کا نتیجہ برسوں بعد بھی آپ کے حق میں نکلتا ہے‘ ورنہ یوسف رضا گیلانی تو 2012ء میں وزیراعظم ہائوس سے نکلے اور نااہل ہو گئے تھے۔

سیاست بڑی بے رحم چیز ہے‘ اس میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل جیسا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ جس پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے میاں نواز شریف نے 14 برس انتظار کیا اور جدہ سے لندن تک مشکلیں دیکھیں‘ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد اس پارلیمنٹ کا رْخ تک نہیں کیا۔ جہاز پکڑا اور دنیا کی سیر کو نکل گئے۔ وہ اپنے دور میں چار سو دن ملک سے باہر رہے۔ آٹھ آٹھ ماہ مسلسل وہ پارلیمنٹ نہیں آئے۔ ایک سال تک وہ سینیٹ نہیں گئے۔ پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہ لینے کا رواج میاں نواز شریف نے شروع کیا تھا جو عمران خان اپنے دور میں عروج پر لے گئے۔ نواز شریف کو تیسری بار وزیراعظم بننے میں چودہ برس لگے تھے تو عمران خان کو بائیس برس لگے۔ عمران خان بھی پارلیمنٹ میں سے وزیراعظم بننے کے لیے ووٹ لینے آئے اور پھر پانچ ماہ وہ بھی ہائوس میں نہیں ملے۔ انہیں کہا گیا کہ ایم این ایز کو زیادہ منہ نہیں لگانا۔ وہ اپنی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی رعونت سے ملتے تھے۔ مجال ہے کہ ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں ہم نے پریس گیلری سے انہیں کسی کو اپنی سیٹ سے اٹھ کر ملتے دیکھا ہو۔ انہیں اعتماد تھا کہ جنرل فیض حمید کا ایک کرنل ان سب کو ووٹ والے دن پیش کر دے گا۔ عمران خان کو اس وقت ہائوس سے زیادہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر اعتماد تھا۔ یہ اعتماد ہر وزیراعظم اپنے جنرلز پر کرتا آیا ہے۔ بھٹو صاحب نے جنرل ضیا پر اعتماد کیا تھا اور انہیں ساتویں نمبر سے اٹھا کر چیف بنادیا۔ بقول سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی یہی اعتماد نواز شریف کو پرویز مشرف پر دلایا گیا کہ اپنا بندہ ہے اور انہوں نے تیسرے نمبر سے جنرل پرویز مشرف کو اٹھا کر چیف بنا دیا۔ سبھی وزائے اعظم کو لگتا تھا کہ ان کے لگائے ہوئے جنرلز کا کام ان کی نالائقیوں‘ نااہلیوں اور بیکار سیاسی اپروچ کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور وہ اب کسی کو بھی جوابدہ نہیں‘ ماسوائے مقتدرہ کے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو عمران خان کہتے تھے کہ آئی ایس آئی کو علم ہے میں کرپٹ نہیں ہوں۔ مطلب وہ وزیراعظم ہو کر خود کو آئی ایس آئی کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے‘ پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے نہیں۔ وزیراعظم کو کسی ایجنسی سے کریکٹر سرٹیفکیٹ کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب وہ پارلیمنٹ اور عوام سے دور ہوتا ہے‘ جیسے اِس وقت شہباز شریف ہو چکے ہیں۔

اْدھر سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سینیٹ میں کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنے دور میں ہزارہ برادری کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو کر اچھا کیا تھا۔ بقول ان کے ہزارہ برادری کے مقتولین کے ورثا‘ جو سڑک پر اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر بیٹھے تھے‘ وہ عمران خان کو بلیک میل کر رہے تھے‘ وہ بلیک میل نہیں ہوئے‘ آج بھی آپ بلوچستان میں لاشوں سے بلیک میل نہ ہوں۔ میں حیرانی سے کاکڑ صاحب کو سنتا رہا کہ وزیراعظم کو عوام سے بلیک میل نہیں ہونا چاہیے‘ تو پھر ایک آمر اور وزیراعظم میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ وزیراعظم عوام سے آتا ہے اور انہیں جوابدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی وزیراعظم یہ سوچ لے کہ وہ عوام سے بلیک میل نہیں ہو گا تو پھر وہ پھانسی لگ جائے‘ جلاوطن ہو جائے یا جیل جا بیٹھے‘ عوام بھی پروا نہیں کرتے۔ (بشکریہ: روز نامہ دنیا)

رؤف کلاسرا سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی پارلیمنٹ میں اپنے دور میں پارلیمنٹ کے بلیک میل نہ شہباز شریف وزیر داخلہ نواز شریف انہوں نے عوام سے نہیں ہو ہے اور

پڑھیں:

لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر

 لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔وزیراعظم دفتر کے مطابق وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی، لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا گیا، وہ چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا، ہلال امتیاز ملٹری، ستارہ بسالت کو ان کی ترقی اور تقرری پر مبارکباد دی اور اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے جنرل عامر رضا کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویشن کی، اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔جنرل عامر رضا کو جنوری 2025 میں چیف آف جنرل سٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا، اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر لاہور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے بعد کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ متعارف کرایا گیا، اسی قانون سازی کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا۔نیا کمان ڈھانچہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے عہدے کے خاتمے کے بعد تشکیل دیا گیا، جنرل شمشاد مرزا اس عہدے پر خدمات انجام دینے والے آخری افسر تھے، جن کے بعد یہ منصب ختم کر دیا گیا۔ترمیم شدہ قانون کے مطابق وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں، یہ تقرری چیف آف آرمی سٹاف کی سفارش پر تین سالہ مدت کے لیے کی جائے گی، جبکہ چیف آف آرمی سٹاف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب سنبھالیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری