شہباز شریف کی طارق رحمان کو دورۂ پاکستان کی دعوت، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دورۂ پاکستان کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بنگلادیش کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کا خواہاں ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین کو حالیہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور بنگلادیشی عوام کو جمہوری عمل کے کامیاب انعقاد پر بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے بنگلادیش کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کی پاکستان-بنگلادیش تعلقات کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان مثبت سفارتی روابط میں ان کا کردار قابل قدر رہا ہے۔
دوسری جانب طارق رحمان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں بنگلادیش کے دورے کی دعوت دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط موجود ہیں جنہیں نئی جہت دینے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔