26 نومبر احتجاج کیس، علیمہ خان کے 13ویں مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے 13ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنت گرفتاری جاری کر دیے۔
علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت میں علیمہ خان پیش نہ ہوئیں جس پر ان کے وکلا کی جانب سے دائر کردہ استثنا کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
عدالت نے علیمہ خانم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ ان کے دونوں ضمانتیوں کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیے گئے۔
پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی پر پابندی عائد
پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں موجود رہی۔ پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے مطابق استغاثہ کے 38 گواہان اب تک عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان جان بوجھ کر سماعت میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ علیمہ خان کو ہر حال میں 19 فروری کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ علیمہ خان اور ان کے ضمانتیوں کو گرفتار کر کے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔
برائلر مرغی کی قیمت میں اضافہ
واضح رہے کہ علیمہ خان کے خلاف یہ 13ویں مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گرفتاری جاری کہ علیمہ خان ضمانت وارنٹ عدالت میں عدالت نے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں