Express News:
2026-07-24@08:25:50 GMT

وزیر اعظم کا دورۂ ترکیہ اور بھارت کی سازشیں

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

وزیر اعظم پاکستان کے دورہ ترکیہ اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ جیسے اقدامات کا باہم کوئی تعلق ہے یا نہیں، اس سوال کا جواب تلاش کر لیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ ہمارے آس پاس کیا ہو رہا ہے اور آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی پہلی یعنی پی ڈی ایم کی حکومت کے بنتے ہی پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا اور وطن عزیز بین الاقوامی تعلقات کے نقشے پر نمایاں ہو گیا۔ یہ پی ٹی آئی حکومت کی سست رفتار خارجہ پالیسی کے بالکل برعکس تھا۔ یہاں عمران حکومت کی خارجہ پالیسی کی صرف ایک مثال کا ذکر ضروری ہو گیا ہے۔

2019 میں مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے سے پہلے زبردست سفارتی سرگرمی شروع کر دی تھی۔ نریندر مودی خود اور ان کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر دنیا کے اہم ترین دارالحکومتوں کا دورہ کر انھیں اعتماد میں لیا اور بتایا کہ ان کی حکومت کا فیصلہ کیوں ضروری ہے۔ پاکستان کشمیر کی شہ رگ ہے۔

اپنی شہ رگ کو دشمن کے شکنجے میں جانے سے بچانے کے لیے پاکستان اس وقت جو کچھ بھی کر گزرتا، کم ہوتا لیکن ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا اس وقت کا وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دونوں اسلام آباد میں تھے۔ گویا اس زمانے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی فعال نہیں تھی۔ یہ عمران حکومت کی عدم فعالیت ہی کا نتیجہ تھا کہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔

میاں شہباز شریف دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے تو انھوں نے کام کا آغاز وہیں سے کیا جہاں سے چھوڑا تھا۔ دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے انھیں ابھی صرف ایک برس ہی ہوا ہے لیکن خارجہ تعلقات کے ضمن میں اتنی پیش رفت ہو گئی ہے جتنی عام حالات میں پانچ سات برسوں میں ہوتی ہے۔ یہاں ذکر یہ مقصود ہے کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کا انفرادی پہلو کیا ہے جس سے بھارت حدت محسوس کر رہا ہے؟ دنیا کا نقشہ میز پر رکھ کر وزیر اعظم شہباز شریف کے غیر ملکی دوروں کے مقامات کو نکتے سمجھ پینسل سے انھیں ملا دیا جائے تو مستقبل کا نقشہ وجود میں آ جاتا ہے۔

یہ نقشہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نہیں مستقبل کی صورت گری ہے جس سے پاکستان ہی نہیں اس خطے کی قسمت وابستہ ہے جس کی صورت گری میں بنیادی کردار دو شخصیات کا ہے، ان میں ایک وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف ہیں اور دوسرے صدر جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردوان۔ وزیر اعظم پاکستان کا حالیہ دورہ پاکستان کا تعلق بھی اسی منصوبے سے تھا۔ اس منصوبے کی اہمیت اس وقت نہیں سمجھی جا سکتی جب تک اس اقتصادی تباہی کی وجوہات کو نہ سمجھ لیا جائے جس کا آغاز پی ٹی آئی حکومت میں ہوا تھا۔

 پی ٹی آئی حکومت کے ایک اقتصادی مشیر نے گفتگو میں انکشاف کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام لینے میں دانستہ تاخیر کر دی گئی ہے۔ اس وجہ سے اب پاکستان کی اقتصادی تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔

اس کے بعد اس دور کے ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے کھلے بندوں کہہ دیا تھا کہ پاکستان تیکنیکی اعتبار سے دیوالیہ ہو چکا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی یہ اقتصادی تباہ حالی تھی اور دوسری طرف ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجووں کو پاکستان میں بسا کر خانہ جنگی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ اقتصادی دیوالیہ پن کے ساتھ خانہ جنگی کا ایک ہی مطلب تھا کہ بین الاقوامی قوتیں متحرک ہو کر یہ مؤقف اختیار کر لیتیں کہ پاکستان میں ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں لہٰذا انھیں اقوام متحدہ کی تحویل میں دے دیا جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف قومی معیشت کو پٹڑی پر چڑھانے کے بعد جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا تعلق مستقبل ہے جس میں پاکستان کا مفاد تو ہے ہی، اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی اس میں پوشیدہ ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ صدر ایردوان نے ایک سہ فریقی میکنزم کا تصور پیش کیا تھا جس میں پاکستان کے علاوہ آذر بائیجان کو بھی شامل کیا جائے۔ ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے مجھے بتایا تھا کہ یہ میکنزم اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور اسٹریٹجک تعاون کو تو فروغ دے گا ہی، اس کے علاوہ ایک مڈل کاریڈور بھی تعمیر کرے گا جو پاک چین اقتصادی راہداری کی افادیت میں مزید اضافہ کر دے گا۔

صدر ایردوان کے حالیہ دورہ پاکستان سے سہ فریقی میکنزم کی داغ بیل پڑی جس کی تکمیل وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ آذر بائیجان میں ہو گئی۔ وزیر اعظم پاکستان کے اس دورے کا مقصد اس پیش رفت کا جائزہ لینے کے علاوہ چند اہم ترین شعبوں میں باہمی معاہدے بھی تھے۔ سہ فریقی میکنزم اور مڈل کاریڈور کے ذریعے ہمارا خطہ نہ صرف گریٹر یوریشیا سے منسلک ہو جائے گا بلکہ پورا وسط ایشیا بھی اسی دائرے میں شامل ہو جائے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان جو خواب دیکھ ہیں اس کا تعلق پاکستان سمیت پورے خطے کی ترقی اور خوش حالی سے ہے۔ یہ میکنزم صرف ترقی اور خوشحالی کا ہی ضامن نہیں ہے بلکہ اس کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے۔ بھارت اسی مستقبل سے خوف زدہ ہے کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ خطے کے ممالک خاص طور پر پاکستان اپنی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ جس بالادستی کے خوب دیکھ رہا ہے، وہ چکنا چور ہو جائیں گے۔ بنگلا دیش کی کایا کلپ نے بھی اسے پریشان کر رکھا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ ترکیہ اور امریکی نائب صدر کے دورہ بھارت کے موقع پہلگام کے ڈرامے اور اس کے بعد انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کے علاوہ جنگی عزائم ظاہر کرنے کا مطلب یہی ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے اور خطے کی خوش حالی کے جس پروگرام پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے، اس سے اس کی توجہ ہٹا کر اسے اپنی سلامتی کے خطرے سے دوچار کر دیا جائے۔ یوں اس کی سنبھلتی ہوئی معیشت متاثر بھی متاثر ہو گی اور علاقائی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے بھی فوری طور پر رک جائیں گے۔

بھارت چاہتا ہے کہ حالت جنگ میں مبتلا کر کے پاکستان کو ایک بار پھر عمران خان کے دور میں پہنچا دیا جائے جس میں اس کی اقتصادی حالت تباہی سے دوچار ہو جائے اور وہ علاقائی بالادستی کے ضمن اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کر سکے۔ گزشتہ تباہی کے بعد پاکستان کو بڑی جاں فشانی سے درست راہ پر گامزن کیا گیا ہے۔ یہی راستہ کامیابی کا ہے۔ بھارت کی طرف سے کسی وقت کوئی بھی شرارت متوقع ہو سکتی تھی جو انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کی صورت میں سامنے آ گئی ہے۔ پاکستان نے فوری پر درست ردعمل ظاہر کیا ہے، اس کے بعد یہ ضروری ہے بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے کہ وہ اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے کس طرح انسانی جانوں سے کھیلتا ہے اور دہشت گردی کو بہ طور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

ڈاکٹر عمر حیات عاصم کا اقبال

تھوڑا عرصہ ہوتا ہے، آپا نعیم فاطمہ علوی کے ہاں ادیبوں کی ایک محفل میں اقبال کا ذکر ہوا تو وہاں موجود ایک خاتون دانش ور نے کہا کہ اقبال یقینا بڑے دانش ور اور بزرگ ہیں ان سے تھوڑا سا فاصلہ بھی ضروری ہے۔ کئی لوگوں کے کا ن کھڑے ہوئے لیکن خاموش رہے جب کہ چند ایک یہ سوال کیے بغیر نہ رہ سکے کہ اس کا سبب؟جواب میں وہی روائتی باتیں سامنے آئیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ مجھے ڈاکٹر عمر حیات عاصم سیال کی یاد آئیَ ڈاکٹر صاحب ایک درویش دانش ور ہیں جنھوں نے ستائش اور صلے کی تمنا کیے بغیر ساری زندگی تعلیم و تعلم میںگزار دی ۔ اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریوں کی ادائی کے ساتھ ساتھ وہ تصنیف و تالیف کے کام بھی مصروف رہے۔

اقبالیات بھی ان کا محبوب موضوع ہے۔ وہ معروف ماہرین اقبالیات کی طرح کسی پیچیدگی میں پڑنے کے بہ جائے اصل متن پر کام کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوتا ہے، اقبال پر ان کی کچھ کتابیں آئیں جن میں ’ بچوں کا اقبال اور’مطالعہ قرآن حکیم اقبال کی روشنی میں‘۔ یہ کتابوں کی ورق گردانی ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اقبال کے اگر متن کو ہی موضوعاتی اعتبار سے جمع کر دیا جائے تو نہ صرف اقبال تک لوگوں کی رسائی آسان ہو جائے گی بلکہ ان کے بارے میں پیدا کردہ منفی تاثرات کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکتر عمر حیات عاصم سیال کا کام قابل قدر ہے جس سے استفادہ بھی کیا ہونا چاہیے اور اس کی تحسین بھی کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان خارجہ پالیسی پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان کا پاکستان کی ترقی اور کے علاوہ دیا جائے ہو جائے کے دورہ بھی اس کے بعد تھا کہ ہو گیا خطے کی

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا