بھارتی میڈیا کا جھوٹ بےنقاب: پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا پول کھل گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
دہشت گردی کا الزام لگا کر پاکستان کو بدنام کرنا بھارتی پالیسی کا پرانا وطیرہ ہے، بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتھارامن کی صدر ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملاقات کو پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اس ملاقات کو بھارتی میڈیا نے پاکستان پر سفارتی دباؤ کی “کامیابی” قرار دیا، عالمی میڈیا کے سوالات پر بھارت کے گودی میڈیا کی خبر کو ہی جعلی قرار دے دیا، بین الاقوامی میڈیا نے ملاقات کی سچائی پر سوالات اٹھائے، تو مودی سرکار نے فوراً اسے”جھوٹی خبر” قرار دیا ۔
سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یہ رویہ بھارت کی دوغلی سفارت کاری اور جھوٹے بیانیے کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان کے خلاف یہ مہم دراصل بھارت کی اندرونی ناکامیوں اور عالمی سطح پر بگڑتی ہوئی ساکھ سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔