بلوچستان ہائیکورٹ میں 6 ہزار سے زائد، ماتحت عدالتوں میں 18 ہزار کیسز زیر التواء
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق عدالت عالیہ بلوچستان میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 6385، جبکہ ماتحت عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 18424 ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عدالت عالیہ بلوچستان میں چھ ہزار سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں، جبکہ بلوچستان کی ماتحت عدالتوں میں 18 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق عدالت عالیہ بلوچستان میں سال 2025 کے شروع میں زیر التواء مقدمات 5272 تھے۔ سال 2025 کے دوران 6926 مقدمات دائر ہوئے، جبکہ 31 دسمبر 2025 تک 5813 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت عدالت عالیہ بلوچستان میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 6385 ہے۔ اسی طرح سال 2025 کے شروع میں ماتحت عدلیہ میں زیر التواء مقدمات 18685 تھے۔ سال 2025 کے دوران ما تحت عدلیہ میں 62393 مقدمات دائر ہوئے، جبکہ 62654 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت بلوچستان کی ماتحت عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 18424 ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں زیر التواء مقدمات کی تعداد ماتحت عدالتوں میں سال 2025 کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔