data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران ایرانی حکومت نے گزشتہ ماہ ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے مظاہرین سے متعلق تقریباً تین ہزار افراد کے نام اور شناخت جاری کر دیے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دفتر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 3,117 افراد ہلاک ہوئے، تاہم 131 لاشوں کی شناخت نہ ہو سکنے کے باعث ان کے نام فہرست میں شامل نہیں کیے گئے۔ ہلاک ہونے والوں کے ناموں کی یہ فہرست ایران کے مختلف قومی اخبارات میں شائع کی گئی ہے۔

ایوانِ صدر کے مطابق فہرست میں شامل 2,985 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جسے حکومتی سطح پر شفافیت کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اور عالمی مبصرین اس اقدام کو محض دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ جاری کی گئی فہرست اب بھی نامکمل ہے اور اس میں کئی ہلاک شدگان کے نام شامل نہیں کیے گئے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور ریاستی ادارے جان بوجھ کر تعداد کم ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو برسوں سے خطے میں ریاستی جبر کے واقعات میں دیکھا جاتا رہا ہے، جہاں طاقت کے استعمال کے بعد حقائق کو محدود شکل میں سامنے لایا جاتا ہے۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے اس فہرست کو ایک سنگین جرم کا اعتراف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زائد افراد کے ناموں کی اشاعت دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی تشدد بڑے پیمانے پر ہوا، جس کی بین الاقوامی سطح پر آزاد تحقیقات ہونی چاہییں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری، بالخصوص وہ طاقتیں جو انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، اس معاملے پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود