Jasarat News:
2026-07-24@08:03:09 GMT

کشمیر… کیا محض زبانی اظہار یکجہتی کافی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260207-03-2
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت جس محاذ پر اور جس زبان میں بات کرے گا، اسی میں جواب ملے گا۔ اس کی پراکسیز کا بھی وہی حشر کریں گے جو اس کے لڑاکا طیاروں کا کیا۔ دنیا کو بتا دیا کہ کشمیر نہ بھارت کا حصہ تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا۔ ان جذبات کا اظہار وزیر اعظم نے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت، حریت رہنما اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے سید علی گیلانی، برہان الدین وانی، آسیہ اندرابی، یٰسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام کشمیری رہنمائوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جدوجہد آزادی اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ان کی قربانیوں اور خون سے کشمیر کی دھرتی سرخ ہے اور بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، یہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ تنازع کشمیر کا پائیدار حل صرف اور صرف کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل سے ہی ممکن ہے، اس کے سوا بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں، پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق ملنے تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کو قربان کر سکتے ہیں لیکن اپنی آزادی قربان کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیر کی آزادی پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا اور اسے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہماری مسلح افواج نے ایسا سبق سکھایا جو اس کی نسلیں بھی کبھی بھول نہ پائیں گی، معرکہ حق صرف ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی فتح نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کی قربانیوں کی بھی فتح ہے۔ معرکہ حق کے بعد کشمیر کاز پوری دنیا میں پوری قوت سے زندہ ہوا، بھارت کا جھوٹ کا بیانیہ دفن ہونا ہماری سفارتی کامیابی ہے۔ بھارت نے ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دوبارہ دہشت گردی تیز کر دی ہے، بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ عزائم کو ترک کیے جانے تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکورٹی فورسز بھارت کی دہشت گردی میں ملوث پراکسیز کا بھی وہی حشر کریں گی جو اس کے لڑاکا طیاروں کا ہوا، امن چاہتے ہیں لیکن برابری اور انصاف کی بنیاد پر، بھارت جو محاذ کھولے گا اور جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب ملے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر و فلسطین کے عوام کو ان کی مرضی سے جینے کا حق ملنا دنیا کی جمہوریت پسندی اور انصاف پسندی کا امتحان ہے، بین الاقوامی قوانین اور اصول اس حق کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر آزاد کشمیر کے عوام اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے تعمیر و ترقی کے بہت سے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ دریں اثنا ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کا دورہ کیا انہوں نے شہدائے جموں و کشمیر کی یاد گار پر حاضری دی اور شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معززین اور سابق فوجیوں سے ملاقات کی، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں جرأت، عزم اور بے لوث جدوجہد کی روشن مثال ہیں، شہدا کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ پاکستان سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق منصفانہ حل تک مسئلہ کشمیر اجاگر کرتا رہے گا، مقبوضہ وادی کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جلد آزادی کی صبح دیکھے گی جو اہل کشمیر کی اجتماعی خواہش اور مقدر ہے، پاکستان عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ بھر پور طریقے سے اٹھاتا رہے گا۔ فیلڈ مارشل نے مشکل آپریشنل حالات کے باوجود کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کی تعریف کی، جوانوں کی غیر متزلزل وابستگی، بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ریاستی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کشمیریوں کے حوصلے نہیں توڑ سکی، ہندو توا پر مبنی پالیسیوں کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد عاصم منیر نے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر آزاد کشمیر جا کر جس طرح کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی سے وابستگی کا اظہار کیا اور وہاں جن خیالات کا اظہار کیا وہ یقینا پاکستان کے عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا کشمیری عوام کی تحریک آزادی سے پاکستان کے اہم ترین رہنمائوں کا محض زبانی اظہار یکجہتی کر دینا کافی ہے؟ جیسا کہ وزیر اعظم نے بانی پاکستان کے حوالے سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا مگر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا کوئی ملک یہ برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی شہ رگ 78 برس تک اس حال میں دشمن کے قبضہ میں رہے کہ اس سے مسلسل لہو بہہ رہا ہو اور دشمن ہر لمحہ اسے اذیت ناک طریقے سے زخم پہ زخم لگا رہا ہو۔ اس کی آٹھ لاکھ فوج نے وہاں کے باشندوں کا جینا محال بنا رکھا ہو۔ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تحریک حریت کشمیر کے خلاف گھیرا تنگ کرتا چلا جا رہا ہے۔ پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعات 370 اور -35 اے منسو خ کر کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت پر کاری ضرب لگائی مگر پاکستانی حکومت نے اس پر زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر کوئی ٹھوس عملی اقدام نہیں کیا۔ جناب وزیر اعظم کم و بیش گزشتہ چار برس سے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں مگر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے تقریروں سے بڑھ کر کون سا عملی اقدام تحریک حریت کشمیر کو تقویت پہنچانے کے لیے کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ’معرکہ حق‘ میں وطن عزیز کی شاندار کامیابی کا ذکر کیا مگر سوال یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنی اس فتح کو اپنی شہ رگ کو دشمن کے پنجہ سے آزاد کرانے کے لیے کس قدر موثر طور پر استعمال کیا۔ شہ رگ کو دشمن کے پنجے سے آزاد کرانے کے لیے کس قدر موثر طور پر استعمال کیا۔ مسئلہ کشمیر سال ہا سال سے اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کی حیثیت سے معلق چلا آ رہا ہے مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ کشمیریوں کے وکیل اور مسئلہ کے ایک اہم فریق کی حیثیت سے پاکستان نے ایک طویل عرصہ سے اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کی جانب کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کی۔ یادش بخیر! قومی اسمبلی کی ایک ’کشمیر کمیٹی‘ کبھی عالمی سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے بہت متحرک ہوا کرتی تھی مگر اب ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر بھی اس کمیٹی کے وجود میں کوئی حرکت محسوس نہیں کی۔ اس صورت حال میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے یہ لمحہ فکر ہونا چاہیے کہ ہم کب تک اپنی شہ رگ کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑے رہیں گے؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کی پاکستان کی پاکستان نے فیلڈ مارشل مسلح افواج کے موقع پر بھارت کا کشمیر کے انہوں نے کہ کشمیر معرکہ حق کشمیر کی کے عوام دشمن کے کہا کہ کے لیے نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار