عمران خان کو عدالت لانے یا وڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کے خلاف 6 کیسز کی سماعت کی، بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے، عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سابق وزیر شاہنواز رانجھا کو قتل کرنے کی کوشش سمیت دیگر 5 کیسز کی سماعت ہوئی جس میں سلمان صفدر نے دلائل دے دیے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ حکومت کی مقدمات میں دلچسپی نہیں، مقدمات کے تفتیشی افسران بھی یہاں موجود نہیں ہیں، کسی تفتیشی افسر نے مقدمات میں شامل تفتیش بھی نہیں کیا۔ عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔ جج افضل مجوکہ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام تفتیشی افسران ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں۔ بعدازاں عدالت نے کیس کے سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت مقدمات درج ہیں، بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر ایک مقدمہ درج ہے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کی بینائی سے متعلق شائع خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا۔ ایک بیان میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی بینائی کے حوالے سے جلد بازی میں خبریں شائع کی گئیں جوبے بنیاد تھیں۔ اعظم نذیر کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی 85 فیصد ختم ہوگئی ہے۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ بینائی کی بحالی کا عمل بھی جاری ہے، ان کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 ہے جو اس عمر میں معجزے سے کم نہیں ہے، عمران خان کی دوسری آنکھ کی بینائی 70 فیصد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی بینائی عدالت نے کے خلاف
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔