کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل: نیب نے پلی بارگین کے تحت ساڑھے 4 ارب روپے ریکور کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کوہستان کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے ڈرائیور نے پلی بارگین کے تحت ساڑھے 4 ارب روپے ادا کردیے اور رہا ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: کوہستان کا 40 ارب روپے کا میگا اسکینڈل، نیب نے مزید 20 کروڑ روپے برآمد کرلیے
ترجمان کے مطابق چیئرمین نیب نے ملزم قیصر اقبال کے ڈرائیور ممتاز کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی۔
نیب کے مطابق احتساب عدالت نے بھی ڈرائیور ممتاز کی پلی بارگین درخواست کی توثیق کردی ہے۔
نیب کے مطابق ڈرائیور ممتاز کوہستان اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر خان کا بے نامی دار اور ڈرائیور ہے۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کے مطابق مرکزی ملزم کے بے نامی دار کی حیثیت سے ممتاز کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوئی، جس میں 4 ارب 50 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن شامل ہے۔
نیب نے مزید بتایا کہ تحقیقات کے دوران ممتاز کو حراست میں لیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: کوہستان 40 ارب روپے کرپشن اسکینڈل: نیب نے 5 مزید ملزمان گرفتار کرلیے
واضح رہے کہ 40 ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں اس سے قبل بھی 20 کروڑ روپے برآمد کیے گئے تھے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے مرکزی ملزم اور اسکینڈل کے ماسٹر مائنڈ قیصر اقبال کے گھر ایبٹ آباد میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران 20 کروڑ روپے برآمد کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پلی بارگین تحقیقات کوہستان کرپشن اسکینڈل ماسٹر مائنڈ مرکزی ملزم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پلی بارگین تحقیقات کوہستان کرپشن اسکینڈل وی نیوز کرپشن اسکینڈل پلی بارگین کروڑ روپے ارب روپے کے مطابق
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔